بلا نکاح کے عورت کو اپنے ساتھ رکھنا
سوال
ایک صاحب نے ایک عورت کو اپنی زوجیت میں بلا نکاح عرصہ تک رکھا جس سے لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ اس کی بیوی ہے لیکن حال ہی میں اس عورت نے کسی دوسرے سے زنا کیا۔ جب اس کے موجودہ شوہر کو پتہ چلا تو اس نے زدوکوب کیا۔ بعد میں اس عورت نے کہا کہ میں ان کے پاس نہیں رہوں گی بلکہ اس کے ساتھ رہوں گی۔ جس سے برا چرچا ہوا، موجودہ شوہر نے اس کو اجازت دیدی کہ تمہاری جہاں مرضی ہو رہو۔ کچھ دیر بعد لوگوں نے نکاح پڑھوانے کے لئے امام صاحب کو بلایا۔ لیکن امام صاحب نے کہا کہ جب تک عورت عدت نہ گزار یگی نکاح درست نہیں ہوگا۔
جواب
بلا نکاح کئے یہ کہنا کہ اپنی زوجیت میں رکھا مفہوم زوجیت کا استہزاء ہے، جو کہ خطر ناک ہے۔ ایسی باتوں سے کلی پرہیز کیا جاوے یہ زوجیت نہیں بلکہ زنا کاری ہے جو کہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ زوجیت کی ترغیب اور بعض صورتوں میں وجوب ہے، سنت متواترہ سے ثابت ہے اور زنا کرنا حرام ہے ممنوع ہے اس پر سخت سزا ہے ہر دو کو توبہ واستغفار لازم ہے کہ کبھی ایسی حرکت نہ کریں جب وہ عورت کسی کے نکاح یا عدت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔