الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زنا کا اقرار اپنے حق میں معتبر ہے

سوال

مسجد کی کمیٹی کے دواراکین نے پہلے ہندہ کی بدچلنی اور اس کا کسی اور سے تعلقات کا ذکر بکر سے کیا تھا (مگر بعد میں بکر سے نکاح کرنے کے لئے دواراکین نے بھی جوق در جوق حصہ لیا) ہندہ کوئی کنواری بالغہ نہیں بلکہ بیوہ اور تین بچوں کی ماں ہے، جو گھر باہر رہ کر مزدوری کرتی ہے اس کے سب سے بڑے لڑکے کی عمر ۱۳ / اور ۱۴/ سال کے مابین ہے۔ کیا ایسی حالت میں مطابق شریعت اسلامیہ ہندہ کا بیان قابل اعتبار ہوسکتا ہے؟

جواب

ہندہ اپنے حق میں زنا کا اقرار کرلے تو وہ معتبر ہوگا لیکن بکر یاکسی اور کے متعلق اقرار کرے تو محض اس کے اقرار سے بکر یا کسی اور کو زانی قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک شرعی ثبوت موجود نہ ہو۔ (کذافی البحر الرائق)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو