کیا عورت کا یہ کہنا” میں بغیر شوہر کے ہوں معتبر ہے؟
سوال
ایک عورت مسلمہ اجنبیہ غیر علاقہ کی شادی شدہ اور جس کی گود میں تین سال کی ایک لڑکی ہے وہ عورت اہل اسلام کے روبرو یہ بیان دیتی ہے کہ میں بیوہ ہوں لاوارث ہوں اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ محض اس اجنبیہ عورت کے بیان پر شرعاً اس کا عقد کر دیا جائے یا نہیں؟
جواب
اگر ظاہر حال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتی بلکہ اس کے صدق کا ظن غالب ہے تو اس کا نکاح کر دینا درست ہے مگر اس سے دوبارہ تفصیلاً دریافت کر لیا جائے کہ تیرا شوہر مر گیا ہے یا اس نے طلاق دیدی ہے اگر اس کے کذب کا ظن غالب ہو تو اس کے نکاح سے احتراز کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔