غیر مسلمہ سے کورٹ میرج کے نکاح کے بعد وہ مسلمان ہوئی تو دوبارہ نکاح کے لئے استبراء رحم
سوال
(۱) زید نے لتا سے کورٹ میرج (عدالتی نکاح) کر لیا۔ ایک عرصہ تقریباً ساڑھے تین یا پونے چار سال گذرنے کے بعد ایک دن لتا نے زید اور ڈاڑھی اور ٹوپی والے دو مسلمانوں کے روبرو یہ کہہ کر کہ میں نے مذہب اسلام کو اپنے مذہب کے طور پر کیا آج سے سرکہ۔ میں مسلمان ہوں اور کلمہ اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً عبده ورسوله پڑھ کر قبول کر لیا اور پھر اسی مجلس میں انہیں دو مسلمانوں کے رو برو زید نے لتا سے کہا میں نے تمہیں اپنی بیوی بنالیا اور لتا نے کہا میں نے یہ بات منظور کر لی اور مہر کی ایک رقم متعین کر دی گئی اس وقت ان…
جواب
(۱) اگر اس نے صدق دل سے یہ کہا ہے تو اس کا ایمان مقبول ہے۔ کذا فی شرح الاکبر (۲) اس طرح نکاح صحیح ہے۔ کذافی الہندیہ (۳) درست ہے۔ کذافی الدر المختار (۴) دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی عورت حاملہ ہو زنا سے (اس کے شوہر نہ ہو)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔