بلا طلاق نامہ دیکھے نکاح ثانی
سوال
۱۹۵۵ء میں مجھے طلاق ہوگئی تھی، طلاق نامہ میرے بھائیوں کے قبضے میں ہے وہ لوگ اس کو دینا نہیں چاہتے اور میرے عقد ثانی سے بھی وہ متفق نہیں ہیں۔ میں بالغ ہوں اور اپنا نفع ونقصان سمجھتے ہوئے عقدِ ثانی کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن قاضی ومولوی صاحبان طلاق یا کوئی چشم دید شہادت چاہتے ہیں اور یہ بھائیوں کی وجہ سے نہیں ہو پارہا ہے۔ کیا اس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ ایسا بن سکتا ہے کہ میں اپنا عقد ثانی کر سکوں؟ اگر ہے تو مطلع فرمادیں۔
جواب
بھائی اگر طلاق نامہ نہیں دیتے اور بغیر اس کو دکھائے آپ کا دوسرا نکاح نہیں ہورہا ہے تو یہ بھائیوں کی طرف سے ظلم ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ اس کو آپ کے کہنے پر اعتماد ہو اور بغیر طلاق نامہ دیکھے وہ نکاح پر آمادہ ہو تو اس سے نکاح درست ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔