الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق کے بعد نکاح ثانی

سوال

زید نے اپنی زوجہ کو طلاق دیدی اور گھر سے نکال دیا۔ لڑکی اپنے باپ کے گھر چلی آئی۔ پھر لڑکے کا ماموں آیا اور خوشامد کر کے لڑکی کو لے گیا۔ لڑکے نے پھر اس کو نکال دیا اور اس کے ماموں کے یہاں چلی آئی۔ لڑکی کچھ دنوں کے بعد پھر شوہر کے مکان پر پہونچ گئی۔ تو لڑکے نے کہا کہ جب میں تجھ کو تین طلاق دے چکا ہوں تو بار بار میرے مکان پر آنے کی کیا ضرورت ہے۔ جو بچہ تھاوہ زید نے رکھ لیا۔ اب لڑکی تنہا اپنے باپ کے گھر پر ہے۔ اب لڑکی کا والد اس کو دوسری جگہ نکاح کر کے بھیج سکتا ہے یا نہیں؟ اس بات کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔

جواب

جب شوہر کو طلاق کا اقرار ہے وہ رکھنے پر تیار نہیں۔ وقت طلاق سے تین حیض گزر نے پر دوسری جگہ لڑکی کا نکاح درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو