الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کے بعد شرط کے خلاف کرنا

سوال

شریعت کا حکم اس مسئلہ میں کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح اس شرط پر کہ میرے پاس ایک لڑکا ہے اس لڑکے کا نکاح تم کو کرنا پڑے گا جیسا کہ آج کل ہندوستان میں رواج ہے کہ بدلہ کرتے ہیں جس کے پاس ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوتی ہے اور دوسرے شخص کے پاس بھی اسی طرح سے ہوتی ہیں تو اس میں وہ لڑکی اس کو دیدیتا ہے اور وہ اس کو۔

جواب

نکاح صحیح ہو گیا اب نہ لڑکی فسخ کر سکتی ہے نہ لڑکی کا والد البتہ لڑکی والے سے جو وعدہ خلافی کی ہے اس سے وہ گنہ گار ہوا اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ لڑکی والے کے بے عقل ہونے کا کیا مطلب ہے۔ کیا وہ دیوانہ ہے اور اس کے کس کس فعل میں بے عقلی ظاہر ہوتی ہے اگر لڑکے والا عوض میں نکاح کر دیتا تو کیا پھر بھی لڑکی والے کو بے عقل کہا جاتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو