ثبوت نکاح کس طرح ہوتا ہے
سوال
زید کی لڑکی مسماۃ ہندہ غیر شادی شدہ بعمر ۱۷ سال جوان عمر ہے ایک مرتبہ خالد نے عمر کو زید کی لڑکی ہندہ مذکورہ سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو خالد کے جی میں شبہ ہوا کہ یہ ایک اجنبیہ لڑکی سے کیوں تخلیہ میں باتیں کر رہا ہے خالد نے ہندہ کے والد اور اہل محلہ کے معتبرین سے ذکر کیا تو عمر سے دریافت کیا گیا کہ یہ کیا معاملہ ہے عمر نے محلہ کے مولوی صاحب اور دیگر متعدد آدمیوں سے حلفیہ طور پر بیان کیا کہ خدا تعالیٰ کی قسم ہندہ تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میری اپنی لڑکی، خدا کرے میرا روسیاہ ہو جو میں جھوٹ بولتا ہوں میں تو اسکو اپنی…
جواب
نکاح کا ثبوت اولا گواہوں سے ہوتا ہے۔ اگر عادل ثقہ معتبر کم از کم دو گواہ بھی موجود نہ ہوں تو پھر زوجین کی تصدیق کافی ہوتی ہے کہ اگر ایک انکار کر دے تو نکاح کا ثبوت نہیں ہوتا لہذا اگر دو عادل ثقہ گواہ موجود ہوں تو ان کا اعتبار ہوگا یعنی اگر عمر کے پاس دوسرے گواہ موجود نہ ہوں تو اس کا قول معتبر نہیں اور خالد سے جو نکاح ہوا ہے وہ صحیح اور معتبر ہے اور اگر عمر کے پاس دو عادل گواہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔