وعدہ نکاح سے نکاح نہیں ہو جاتا
سوال
زید نے اپنے دوست بکر سے مذاقاً کہا کہ تمہاری لڑکی فاطمہ کا عقد اور رشتہ میرے لڑکے خالد کے لئے مطلوب ہے۔ بکر نے جواباً کہا کہ ہاں مجھے منظور ہے۔ میں راضی ہوں اس کے بعد دونوں فاطمہ اور خالد کو بہو اور داماد کہنے لگے۔ مذکورہ الفاظ تکرار متعدد مجلسوں میں ہوتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ فاطمہ اور خالد کم سن ایک سال یا اس سے بھی کم عمر کے تھے) اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان مذکورہ الفاظ سے کیا شرعاً نکاح منعقد ہو گیا؟ اور کیا یہ ایجاب وقبول میں داخل ہے؟
جواب
یہ صرف (رشتہ) خطبہ ہے جو کہ وعدہ نکاح کے درجہ میں ہے، نکاح نہیں۔ لہذا ابھی نکاح منعقد نہیں ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔