وعدہ نکاح کر کے اس کے خلاف کرنا
سوال
ایک شخص نے بوقت شادی طفل خود اس بات کا وعدہ کیا کہ وہ اپنی لڑکی جو اس وقت خوردسالہ اور نابالغہ ہے، کا ناطہ عوض معاوضہ کر دے گا۔ مگر اب لڑکی عرصہ سے بالغ ہو چکی ہے اور لڑکا ابھی نابالغ نادار اور ذریعہ معاش نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں منجانبین سخت کشیدگی اور حالات مکدر ہو چکے ہیں اور ناطہ کرنے کی صورت میں مضرت لڑکی کا یقین غالب ہے، اندریں حالات اس دور فتن میں اگر وعدہ کنندہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرے تو وہ شرعی نقطۂ نگاہ سے قابل گرفت ہوسکتا ہے یا نہیں اگر ہوتا ہے تو اس کا دفعیہ کس صورت میں ہو سکتا ہے۔
جواب
وعدہ کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا البتہ بلا وجہ وعدہ خلافی کرنے سے گناہ ہوتا ہے اور وعدہ کرتے وقت اس نیت سے وعدہ کرنا کہ بعد میں مخالفت کروں گا سخت گناہ ہے۔ ہاں اگر وعدہ کرتے وقت تو وعدہ پورا کرنے کی نیت تھی لیکن بعد میں کچھ ایسے عوارض پیش آگئے کہ وعدہ پورا کرنا دشوار ہے یا مصالح کے خلاف ہے تو پورا کرنا واجب نہیں۔ اس کے خلاف کرنا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔