قول وقرار سے نکاح
سوال
عمر وفاطمہ دونوں حقیقی بھائی بہن ہیں۔ عمر کی دولڑکیاں پیدا ہوئی ہیں اور فاطمہ کے دولڑکے پیدا ہوئے ہیں۔ دونوں بھائی بہن آپس میں اپنے بچوں کے متعلق ایک دوسرے سے شادی کے قول وقرار کرتے ہیں۔ چنانچہ بچوں کے بڑے ہونے کے بعد عمر اپنی بڑی لڑکی کی شادی اپنی بہن فاطمہ کے بڑے لڑکے سے کر دیتا ہے باقاعدہ شرعی نکاح کے ساتھ، چنانچہ دونوں خوش وخرم ہیں۔ اس کے بعد فاطمہ اپنے بھائی سے کہتی ہے کہ میرا چھوٹا لڑکا عرصہ دس سال سے بھاگ گیا ہے۔ اسلئے بھائی تم اپنی لڑکی کی شادی کسی اور جگہ کردو۔ چنانچہ عمر نے دوسری جگہ شادی کر دی ہے۔
جواب
اگر اس چھوٹے لڑکے اور لڑکی کے متعلق صرف وعدہ ہوا تھا کہ ان کی شادی کردیں گے اور نکاح نہیں کیا گیا تھا، نہ نکاح پڑھنے والا کوئی موجود تھا نہ گواہ موجود تھا، تو محض وعدہ کر لینے سے نکاح نہیں ہو گیا، اور عمر نے دوسری جگہ جو شادی کر دی ہے وہ صحیح اور معتبر ہے۔ دشمنی کی وجہ سے غلط بات کہنا اور بہکانا سخت مذموم ہے۔ فاطمہ کو بھی چاہئے کہ اصل حقیقت کو نہ چھپائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔