الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کا وعدہ کر کے اس کے خلاف کرنا

سوال

-(۱) زید وہندہ کے والدین نے زید وہندہ کا نکاح ان کے بچپن میں طے کر رکھا تھا۔ زید کے والد کے انتقال ہونے پر اس کی والدہ نے اپنا دوسرا نکاح ہندہ کے بڑے والد (یعنی ہندہ کے والد کے بڑے بھائی) سے کر لیا۔ اب تقریباً دو سال سے زید کے دونوں ذمہ داروں نے ہندہ سے نکاح کرنے کا کسی مصلحت سے انکار کر دیا۔ یہ بات ہندہ کے والدین کے لئے تکلیف کا سبب بنی۔ کہتے ہیں کہ ہمارا ان لوگوں سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ ہندہ کے والد کا یہ انتقام کہ اپنے بڑے بھائی سے ترک تعلق مذکورہ بالا وجہ سے کر لیں تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) نکاح بیوہ بعد عدت شرعا مستحسن ہے۔ وجہ مذکور کی بناء مقاطعہ کرنا اور پر مقاطعہ پر دوسروں کو آمادہ کرنا غلط اور خلاف شرع ہے۔ جن پر دباؤ ڈالا جارہے وہ ہرگز دباؤ میں نہ آئیں۔ مقاطعہ کی ممانعت نہایت قوی ہے، اس کی نحوست کی وجہ سے مغفرت سے محرومی ہوتی ہے۔ کمافی الحدیث۔ (۲) جھگڑے سے حتی الوسع پرہیز کریں، ملاطفت وشفقت سے فہمائش کریں۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو