احتياط الظهر
سوال
بروز جمعہ بعدا دائے فریضہ چار رکعات نماز به نیت احتیاط الظهر کلکته یا اطراف کلکتہ یا کسی گاؤں جو کہ شہر کلکتہ سے ۲۰ میل کی مسافت پر واقع ہو اور وہاں اشیاء ضروریات بھی کثرت کے ساتھ دستیاب ہوتی ہوں تو ایسی جگہوں میں مذکورہ نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے۔ دیگر عرض خدمت یہ ہے کہ البحر الرائق کی عبارت قد افتيت مراراً بعدم صلوة الاربعة بعدها بنية اخر ظهر خوف عدم فرضية الجمعة وهو الاحتياط في زماننا اور دوسری جگہ صاحب بحر کا ایک مستحکم قول الاحتیاط في زماننا ترك احتياط الظهر اظهر من الشمس ہے حالانکہ اس کا جواب صاحب نفع المفتی…
جواب
اس امر میں تمام امت کا اجماع ہے کہ جمعہ دیگر صلوٰۃ خمسہ کی طرح نہیں کہ جس طرح چاہے جہاں چاہے ادا کر لیا جائے بلکہ اس کے لئے کچھ خصوصیات ہیں وجوباً وصحہ جو اور نمازوں کیلئے نہیں۔ اس کے بعد ان خصوصیات میں اختلاف ہے حنفیہ کے نزدیک چھوٹے گاؤں میں جمعہ جائز نہیں وہاں ظہر فرض ہے بڑے گاؤں میں جو اپنی آبادی اور ضروریات روز مرہ وغیرہ کے لحاظ سے قصبہ کے مثل ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔