نماز جمعہ کے بعد احتیاط الظہر
سوال
ایک حنفی المذہب امام ہے جو ہمیشہ دیہات میں نماز جمعہ پڑھتا ہے اور پڑھاتا ہے بہ نیت فرض۔ مگر اس بناء پر کہ حکیم الامت اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب کے فتوی سے صحت جمعہ کا انکار دیہات میں ظاہر ہے تو اگر امام مذکور ظہر کی نماز احتیاطاً پڑھا کرتا ہے بہ نیت قضاء تو اپنے مذہب کی بنا پر قضا پڑھنے میں گنہگار ہے یا مستحق ثواب البتہ عوام کو قضاء پڑھنے پر رغبت نہیں دیتا ہے محض جھگڑے سے بچنے کے لئے مگر سوال کرنے پر اپنا خیال ظاہر کر دیتا ہے اور امام مذکور ایسے قریہ میں جمعہ پڑھتا ہے جہاں عدم صحت جمعہ ظاہر ہے مگر زمانہ قدیم…
جواب
اس امام کو ایسی جگہ جمعہ پڑھانا اور پڑھنا درست نہیں ہے اس کے پیچھے نماز جمعہ پڑھنے والوں کی نماز درست نہیں ہوگی حضرت مولانا رشید احمد صاحب کا فتوی احتیاط الظہر کو منع کرنے کیلئے مستقلاً چھپا ہوا ہے امام کو چاہئے کہ جمعہ پڑھانے سے عذر کر دے اگر زیادہ فتنہ ہو تو جمعہ کی نماز میں نفل کی نیت کر کے شریک ہو جائے اور پھر اپنی ظہر کی نماز ادا کرے مگر خود جمعہ نہ پڑھائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔