شرائط جمعہ نہ پائے جانے پر مفاسد کا خوف ہو تو کیا کیا جائے؟
سوال
ایک جگہ ایسی بستی ہے جہاں احناف کے مذہب کی بنیاد پر جمعہ نہیں ہوتا لیکن وہاں بہت دنوں سے صلوۃ جمعہ ہوتی چلی آرہی ہے تو اب صلوۃ جمعہ وہاں پڑھی جائے یا نہیں؟ جبکہ چھوڑ دینے سے لوگوں کی ملامت کا خوف ہو ویسے تو لوگ یوں بھی کہا کرتے ہیں کہ ہم لوگ تو ایک پنجوقتی نماز نہیں ادا کر سکتے ہیں جسکی وجہ سے خدا کی یاد سے غافل رہے ہیں، اب اگر جمعہ کی نماز سے منع کر دیا جائے تو غفلت میں اور بھی زیادتی ہو جائے گی اور غفلت میں زیادتی شریعت مطہرہ میں کہاں جائز ہے؟
جواب
ایک غلط کام اگر پہلے سے ہوتا چلا آ رہا ہو تو اسکی اصلاح کی ضرورت ہے، نہایت شفقت ہمدردی سے حسن تدبیر سے اسکی اصلاح کی جائے اسکی اجازت نہیں کہ غلط کام کی تائید کر کے اسکو اور بھی پختہ کر دیا جائے، وہ پانچ وقت کا فرض ادا نہیں کرتے تو اس کا وبال و عذاب ذہن نشیں کرا دیا جائے کہ یہ کس قدر خطرناک حالت ہے احادیث میں اسپر کس قدر وعید ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔