جدائی کے لئے عورت کو مشورہ ارتداد
سوال
مسماۃ ہندہ منکوحہ خالد کی ہے، ہندہ اور اس کے والدین کی خالد سے ناچاقی ہوگئی ہے، ہندہ اور اس کے والد نے خالد سے طلاق طلب کی خالد نے طلاق نہ دی، ہندہ کے والد نے کسی تجویز سے خالد کو کسی مقام پر تنہا پا کر خالد سے طلاق نامہ تحریر شدہ پر مجبور کر کے انگوٹھا لگوالیا، اس لئے کہ خالد تنہا تھا، اور ہندہ کے والد کے ساتھ چار اشخاص اور موجود تھے، مگر اس چھینا جھپٹی سے خالد کا انگوٹھا سالم نہیں لگا اور خالد چھوڑ کر بھاگ گیا، ہندہ کے والد نے مقدمہ فوجداری کے خوف سے وہ کاغذ جلا دیا بعد ازاں ہندہ کے والد نے خالد سے طلاق کے حصول…
جواب
صورت مسئولہ میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ نکاح فسخ نہیں ہوا ہے اور حاکم کا فیصلہ خلاف مذہب ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں بلکہ عورت پر جبر کیا جائیگا، کہ وہ اسلام لاوے اور پہلے شوہر کیساتھ رہے، دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح درست نہیں ہے، اسلام لانے کے بعد احتیاطاً تجدید نکاح بھی ضروری ہے، اور تجدید نکاح سے پہلے ہم بستری وغیرہ بھی منع ہے، اگر شوہر خود اسکو رکھنا نہ چاہئے بلکہ آزاد کرے تب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔