جمہوریت اور مشاورت
سوال
(۱) وشاورهم فى الامر فاذا عزمت فتوكل على الله“یہ آیت کریمہ حضور ﷺ کے ساتھ خاص ہے یا عام؟ (۲) جمہوریت کیسے کہتے ہیں؟ اور اسلام میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ (۳) مدارس میں کمیٹی قائم کرنا کیسا ہے؟ اور اس کی کیا صورت ہونی چاہئے؟ (۴) اور نیز زید کا یہ کہنا کہ موجودہ دور میں اسلام میں جمہوریت نہیں ہے کیسا ہے؟ زید مذکورہ بالا آیت وشاورهم في الامر الخ کو استشہاد میں پیش کرتا ہے، اور اگر یہ مطلب ہو کہ موجودہ دور کے لوگوں میں ایسی صلاحیت نہیں رہی کہ جمہوریت چل سکے، تو اس صورت میں زید کا اس آیت کو پیش کرنا کیسا ہے؟
جواب
اس آیت میں اصل خطاب حضرت نبی اکرم ﷺ کو ہے پھر آپ کے اتباع میں ضمناً اوروں کو ہے، مفسرین نے اس آیت کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ ”وشاورھم میں جو ضمیر مفعول ہے اس کا مصداق بھی سب صحابہ نہیں بلکہ مقصود رات دن حاضر باش الو الاحلام والنھی اور اہل الرائے ہیں، جن کی اصابت رائے کا تجربہ ہوتا رہا ہے، اور حق تعالیٰ نے بھی ان کی رائے کی تصویب فرمائی ہے، نیز ”الامر“ کا مصداق مفسرین محققین نے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔