الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مشورہ کی حیثیت

سوال

” وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ“کا کیا مطلب ہے مشورہ فرض ہے یا واجب یا سنت یا مباح کیا ہے، اگر زید اس پر عمل کرنے سے انکار کرتا ہو تو کیا وہ کافر ہے یا خارج از اسلام ہوگا یا نہیں؟

جواب

مشورہ لینا خیر وبرکت کی چیز ہے اس کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ جو شخص مشورہ سے کام کرتا ہے، اس کو ندامت کی نوبت نہیں آتی ہے تاہم اس کا ایسا درجہ نہیں کہ جو شخص مشورہ نہ کرے تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے، ہاں آیت قرآنی” وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ“ اور اَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ“ کا انکار کر دے، تو پھر کافر ہو جائیگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو