الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایصال ثواب کے خلاف استدلال

سوال

(۱) مذہب اسلام نے ایصال ثواب کو جائز رکھا یا نہیں؟ اگر جائز ہے، اور ایک سورت کو پڑھ کر بہت سے مردوں کو بخشے اس سورت کا ثواب تمام مردوں کو برابر ایک سورت کا ملے گا یا بقدر حصہ؟ (۲) ایک شخص ایصال ثواب کو بدعت کہتا ہے اور استدلال میں مندرجہ ذیل احادیث و آیات پیش کرتا ہے آیا یہ صحیح ہے؟ (۱) کبھی حضور ﷺ نے ایک آیت کا بھی ثواب کسی کو نہیں بخشا۔ (۲) کسی صحابی نے کبھی بھی ایک آیت پڑھ کر کسی کو اس کا ثواب نہیں بخشا۔ (۳) کبھی کسی پیغمبر نے بھی ایک آیت پڑھ کر کسی کو اس کا ثواب نہیں بخشا۔ (۴)

جواب

عبارت منقولہ سے معلوم ہوا کہ ایصالِ ثواب جائز ہے اور ایک سورۃ کا ثواب چند مردوں کو بخشا جائے، تو اس میں دونوں قول ہیں باری تعالیٰ کے فضل کے لائق یہ ہے کہ سب کو پوری پوری سورت کا ثواب پہونچے۔ (۲) ایصال ثواب بدعت نہیں بلکہ خیر القرون سے اس پر عمل جاری ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس کی تلقین فرمائی ہے، اور صحابہ کرام نے نیز بعد کے حضرات نے اپنے اعزہ کیلئے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو