الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایصال ثواب وغیرہ کے ختم قرآن پر شیرینی

سوال

یہاں کا رواج ہے لوگ علماء، حفاظ اور کچھ علوم دین جاننے والے لوگوں سے ختم قرآن ختم خواجگان یا اس کے علاوہ اور کسی قسم کا ختم کراتے ہیں اور ایصال ثواب یا اپنے مقاصد کی دعائیں کراتے ہیں، پڑھنے والوں کو کھانا بھی کھلاتے ہیں، اور کچھ روپئے پیسے بھی دیتے ہیں، یہ رواج شرعاً کیسا ہے؟ روپئے پیسے لینا دینا کیسا ہے؟ اہل استطاعت اس قسم کے پیسے لے سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

ایصالِ ثواب کیلئے قرآن پاک ختم کرا کے بطور معاوضہ کھانا کھلانا درست نہیں، اس سے ثواب نہیں ہوتا، بلکہ گناہ ہوتا ہے، علامہ شامی نے اس کی تصریح کی ہے۔ اہل استطاعت اور فقراء کسی کو بھی ایسا کھانا کھلانا اور پیسے لینا درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو