فرائض و واجبات کا ثواب بخشنا
سوال
سنن و مستحبات کے علاوہ فرائض و واجبات کا ثواب بھی مردوں کو پہو نچایا جا سکتا ہے، یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس کا سبب ظاہری یہی سمجھ میں آتا ہے کہ کسی نیکی کا ثواب اگر دوسرے کو بخشا تو بخشنے والے کو ثواب سے محرومی رہیگی لہذا فرائض و واجبات کے عظیم ثوابوں کو اپنے ہی لئے رکھے بلکہ سنن و مستحبات کے ثوابوں کو بھی بس اتنے اندازہ سے بخشے جیسے اپنے مال میں سے زکوۃ وصدقات دیا کرتے ہیں، کیونکہ بخش دیا ہوا تو اب اگر پلے نہیں پڑے گا تو اندازہ زکوۃ سے زیادہ بخش دینے والوں کو قیامت کے روز حسرت ہوگی۔
جواب
ایک قول یہ بھی ہے کہ فرائض اور واجبات کا ثواب بھی بخش سکتا ہے، مگر احتیاط یہی ہے کہ ان کا ثواب نہ بخشے اپنی جس نیکی کا ثواب دوسروں کو بخش دیا اس بخشنے کا ثواب کچھ کم نہیں، بعض اکابر نے تو اپنی تمام حسنات کا ثواب تمام اہل ایمان کو بخش دیا تا کہ اللہ پاک کے دربار میں خالی ہاتھ حاضر ہوں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔