الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبر کی مٹی تبرکاً لے جانا

سوال

اگر کوئی شخص بزرگوں کی قبر پر سے مٹی اٹھا کر کے تبرکا اپنے پاس رکھے تو جائز ہے یا نہیں، اگر شق ثانی ہو تو ممانعت کی وجہ کیا ہے اگر شق اول ہے تو قرآن وحدیث سے ثبوت ہونا چاہئے، اور اگر کوئی بزرگوں کے مزار سے مٹی لے بھی آوے تو اس کو کیسی جگہ پر ڈالنا چاہئے عام راستہ میں پھینک دینا درست ہے یا نہیں ایسی صورت میں کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔

جواب

قبرستان وقف سے مٹی اٹھا کر لانا نا جائز ہے لانه وقف اور اپنے مملوک قبرستان سے مٹی اٹھا کر لانا جائز ہے لانه ملکه البته تبرکاً کسی بزرگ کی قبر سے مٹی لانا اور اپنے پاس رکھنا امر محدث ہے، میت جب خاک بن جائے تو قبر کی جگہ بشرطیکہ مملوک ہو کھیتی کرنا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو