الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنی زندگی میں اپنی قبر کھدوانا یا پکی بنوانا اور اس میں دفن کرنے کی وصیت کرنا

سوال

(۱) اپنی زندگی میں اپنی قبر کھدوا لینا یا پکی بنوا لینا کیسا ہے؟ (۲) والد صاحب نے ضد پر پکی قبر بنوالی، بعد وفات ہم لوگ قبرستان میں دفن کریں اور پکی خالی قبر کو مسمار کر دیں تو کیا حکم ہے؟ (۳) ہماری سوتیلی ماں کو بھی وصیت کر دی ہے کہ ہمارے جنازہ کو اس پکی قبر میں دفن کروانا ورنہ ہم قیامت میں دامن گیر ہوں گے۔ (۴) اگر ہم لوگ والد کی میت کو قبرستان لے جائیں اور ہماری سوتیلی والدہ، والد کے حکم کے مطابق ضد کر کے میت کو پکی قبر میں دفن کرائیں تب ہم لوگوں کو کیا حکم ہے؟

جواب

(۱) اپنی زندگی میں قبر کھدوا لینا درست ہے۔ مگر پکی قبر کی اجازت نہیں، نیز قبرستان میں آبادی سے الگ مردہ کو دفن کرنا چاہئے۔ (۲) پکی قبر میں دفن نہ کریں، اس کو مسمار کر دیں اور قبرستان میں کچی قبر میں دفن کریں گے۔ (۳) وہ بھی اس وصیت پر عمل نہ کریں، اس کی وجہ سے قیامت میں ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ (۴) آپ (۲) کے موافق عمل کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو