پوسٹ مارٹم کے لئے قبر کھود کر میت کو نکالنا
سوال
(۱) کیا زہر خوانی وغیرہ کے معاملات میں نعش دفن ہو جانے کے بعد بغرض پوسٹ مارٹم نعش برآمد کرنے کی شرعاً ممانعت ہے، نعش کا پوسٹ مارٹم ایک وجہ ثبوت ہمچو قسم معاملات میں فراہم کرتا ہے۔ (۲) اگر ایسا ہو تو کیا پولیس کو نعش برآمد کرنے سے روکنا، اسکے خلاف احتجاجی کارروائی کرنا مسلمانوں پر واجب ہے خواہ وہ سلسلہ میں مزاحمت سرکاری ملازم کی زد میں بھی آتے ہیں۔ (۳) کیا احترام قبر ومیت شرع میں اس حد تک رکھا گیا ہے کہ قصاصی کارروائی کے سلسلہ میں بھی اگر نعش برآمد کرنے کی قانوناً ضرورت ہو تو بھی نہ کی جائے۔ (۴)
جواب
(۱) دفن کرنے کے بعد مذکورہ مقصد کیلئے نعش کو قبر کھود کر نکالنا شرعاً درست و جائز نہیں۔ نعش کو چیرنا بھی جائز نہیں۔ زہر خوانی کا ثبوت مجرم کے اقرار یا گواہوں کے ذریعہ ہو سکتا ہے، پوسٹ مارٹم کے ذریعہ جو ثبوت ہو وہ شرعی ثبوت نہیں اور اس ثبوت پر کسی کو مجرم قرار دے کر سزا دینے کا بھی حق نہیں ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔