نصاری کے قبرستان کے قریب دفن کرنا
سوال
یہاں ایک قبرستان لکھی باغ ایک مدت مدید سے چلا آتا ہے اب اس میں بالکل دفن کرنیکی جگہ نہیں ہے، اسپرسیوسیمی نے عرصہ ۱۴ سال سے ایک قطعہ اراضی برائے قبرستان مسلمانان عنایت فرمایا ہے، مگر یہ عیسائیوں کے قبرستان سے ملا ہوا ہے اب اس اراضی کا احاطہ حاجی اشتیاق احمد صاحب وائس چیر مین نے دروازہ اور ایک مسجد وغیرہ تیار کرا دیا ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ عیسائیوں کے قبرستان کے قریب ہے اسلئے اس میں مدفون ہونے والے کا حشر عیسائیوں کے ساتھ ہوگا، حالانکہ عیسائیوں کے قبرستان اور اس قبرستان میں ایک حد فاصل مضبوط دیوار کی صورت میں…
جواب
چونکہ مسلمانوں کے مقابر عیسائیوں کے مقابر سے علیحدہ ہے اور بیچ میں حد فاصل بھی ہے اس لئے دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں، شامی میں ہے، ج:۱،ص:۸۳۵ قال فی الاحکام لا بأس بان يقبر المسلم في مقابر المشركين اذالم يبق من علاماتهم شئى كما في خزانة الفتاوی“ تو جبکہ عدم علامات کی صورت میں مقابر مشرکین میں بھی دفن کرنا جائز ہے، تو علیحدگی کی صورت میں بدرجہ اولی کسی قسم کا حرج نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔