تلقين بعد الدفن
سوال
تلقین بعد دفن میت کے صحابہ و تابعین سے ثابت ہے، یا نہیں، اکثر فقہاء نے اس کے پڑھنے کی یعنی اس کے عمل کی اجازت دی ہے، جیسا کہ مظاہر حق، ماتہ مسائل، اربعین وغیرہ مظاہر حق ج:۱، ج:۱، کتاب الایمان باب اثبات عذاب قبر تلقین بعد دفن میت کے اکثر حنفی مذہب سے ثابت نہیں ہے، لیکن اکثر شافعیہ و حنفیہ کے نزدیک مستحب ہے، ایک حدیث حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ صحابی سے ذکر کی ہے، سیوطی سے جمع الجوامع میں حدیث طبرانی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑا ہو ایک شخص سرہانے اور کہے اے فلاں بن فلاں اور کہا جائے کہ پروردگار…
جواب
یہ مسئلہ فرع ہے، مسئلہ سماع موتی کی، جن حضرات کے نزدیک ثابت ہے، وہ تلقین بعد دفن کے قائل ہیں جن کے نزدیک ثابت نہیں وہ قائل نہیں، سماع موتی کے متعلق صحابہ میں بھی اختلاف تھا، اور بعد میں بھی اختلاف رہا، حنفیہ کے دوقسم کے اقوال موجود ہیں، قاضی خاں ظہیرالدین صاحب الغیاث صاحب الحقائق صغار یہ سب فقہاء حنفی ہیں تلقین بعد دفن کے قائل ہیں، جو روایت آپ نے لکھی ہے اس سے اور اس قسم کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔