میت کو قبر میں رکھنے کی صورت
سوال
مندرجہ ذیل مسائل میں علماء کی کیا رائے ہے؟ مع دلائل بیان فرمائیں۔ (۱) عبارت مذکورہ بالا میں معنی اور مطلب کی رو سے کوئی فرق و تدافع ہے، یا نہیں آیا ہر دو عبارت کا مطلب ایک ہی ہے، یا کچھ فرق ہے، اگر فرق ہو تو اس کی توضیح کر کے بیان فرمائیں۔ (۲) عبارت در مختار ينبغى كونه على شقه الایمن میں لفظ ینبغی سے کیا ثابت ہوتا ہے، وجوب یا سنت یا ندب اور جو کچھ بھی ثابت ہو وہ متفق علیہ ہے یا مختلف فیہ۔
جواب
(۱) کوئی تدافع نہیں ہے علامہ شامی نے در مختار کی تائید میں ہدایہ کی عبارت پیش کی ہے۔ وضع علی شقہ الا یمن کی صورت یہ ہے کہ شق ایمن زمین سے متصل رہے اور شق ایسر آسمان کی طرف مائل بمشرق رہے اور میت کو مشرقی حصہ لحد سے سہارا دیدیا جائے اور چہرہ قبلہ کی جانب ہو جائے: ويوضع في القبر على شقه الايمن مستقبل القبلة كذا في الخلاصه اهـ عالمگيري هكذا فى الخانيه وغيره من كتب الفقه. (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔