صلوة جنازہ اور سنن ونوافل میں ترتیب
سوال
چند دن قبل کا ذکر ہے کہ مسجد میں میت آچکی تھی، اور نماز جنازہ پڑھنا تھا، فرض نماز با جماعت ادا ہونے کے بعد لوگوں نے سنت و نوافل پڑھنی شروع کر دی، اور بعد سنن ونوافل کے نماز جنازہ ادا کی گئی میں نے پیش امام مسجد سے دریافت کیا کہ سنن ونوافل سے پہلے فرض کفایہ مقدم نہیں تھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ کوئی ضروری نہیں کہ سنن ونوافل سے پہلے فرض کفایہ ادا کیا جائے، ہم کو تو یہ طریقہ ترک کرنا ہے، اس لئے ہم نے عمدا سنن ونوافل پہلے پڑھ لیں میں عقلی طور پر ...
جواب
تقدم صلوة الجنازة على سنة المغرب لكن في البحر الفتوى على تأخير الجنازة عن السنة در مختار، اس سے معلوم ہوا کہ نماز جنازہ کو سنت مؤکدہ سے پہلے پڑھنا چاہئے لیکن اگر سنت مؤکدہ کو پہلے پڑھیں اور نماز جنازہ کو بعد میں پڑھیں تب بھی منع نہیں، بلکہ فتویٰ اسی پر ہے، ورنہ نماز جنازہ پڑھکر فوراً ہی اس کو قبرستان لیجانا ہوتا ہے، اگر سنت مؤکدہ پہلے نہ پڑھی تو وہ بالکل ہی ترک ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔