سنت مؤکدہ مقدم ہے یا نماز جنازہ
سوال
تین جولائی بروز بدھ کو ایک میت ہوئی، نماز جنازہ مغرب کی نماز کے بعد ادا کی، امام مسجد فرض عین ادا کر کے نماز جنازہ کے لئے باہر نکل پڑے، مگر کچھ اعتراض کرنے لگے کہ سنت نماز پڑھنے کے بعد ہی جنازہ پڑھی جاتی ہے، چند دنوں کے بعد امام مسجد نے اعلان کیا کہ فرض عین کے بعد ہی فرض کفایہ پڑھنا چاہئے، اس بات پر تنازعہ بڑھ گیا، لہذا شریعت کی رو سے کسی بھی وقتی نماز کے وقت جنازہ آجانے کے بعد سنت نماز پڑھنی درست ہے یا فرض کفایہ ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب
اصل تو یہ ہے کہ فرض عین کے بعد سنت مؤکدہ سے پہلے فرض کفایہ نماز جنازہ پڑھی جائے لیکن اگر اس میں سنت مؤکدہ کے بالکل ہی ترک ہو جانے کا اندیشہ ہو تو سنت مؤکدہ پہلے پڑھیں پھر نماز جنازہ پڑھیں، اس میں نزاع نہ کیا جائے، نرمی سے بات کو بنا کر سلجھا دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔