مقروض کے جنازہ کی نماز
سوال
نماز جنازہ کن کن مسلمانوں کی نہیں پڑھنی چاہئے؟ ایک حافظ قرآن جو کہ حفظ قرآن کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ہیں، انہوں نے ایک حدیث بیان کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو ایک جنازہ آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ یہ قرض دار ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی نماز جنازہ نہیں پڑھائی، اور آج مولوی صاحبان ہر کس و ناکس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے ہیں، کیا یہ بات صحیح ہے کہ قرض دار کی نماز جنازہ نہیں پڑھانا چاہئے؟ اور اگر یہ بات غلط ہے تو حافظ صاحب مذکور کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
متعدد آدمیوں کے متعلق فقہاء نے لکھا ہے کہ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ایک جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسکے ذمہ قرض تو نہیں؟ عرض کیا گیا کہ ہے پھر فرمایا کہ اسنے اتنا چھوڑا ہے کہ قرض ادا کر دیا جائے؟ عرض کیا گیا کہ نہیں؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔