مسجد میں نماز جنازہ
سوال
حضرت اقدس مفتی اعظم صاحب دامت برکاتہم احناف کی حدیث من صلى على جنازة في المسجد فلا اجر له کے بارے میں محدثین کرام کا اعتراض ہے کہ یہ صحیح نہیں ہیں، کیونکہ اسکا راوی صالح مولی التوامہ اس روایت میں منفرد ہے وہ ضعیف ہے اور اس کے مقابل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث و والله قد صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنى بيضاء في المسجد صحیح ہے، مسلم کی روایت ہے حدیث صحیح کے ہوتے ہوئے ضعیف پر عمل کرنا صحیح نہیں ہے، اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر صحابہؓ کے انکار کا اعتراض ہو تو اسکے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ حضرت…
جواب
جنازہ کی نماز بغیر کسی عذر کے مسجد میں پڑھنا حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، کہ من صلى على جنازة في المسجد فلا شيئ له ابو داؤد شریف : ۹۸، ج:۲، سنن ابن ماجه ص: ۱۱۰، نیز اس روایت کو ابن ابی شیبہ نے ص: ۱۵۲، ج ۳، پر اپنی مصنف میں امام احمد نے اپنی مسند میں ص: ۴۴۴، ج:۲، ص: ۴۵۵، ج:۲، پر بیہقی نے ص:۵۱، ج ۴، اور امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔