مسجد میں اضافہ کر کے اس میں نماز جنازہ وغیرہ
سوال
شہر بیاور ضلع اجمیر میں ایک جامع مسجد ہے پہلے کسی زمانے میں نیچے کے درجہ میں مسجد تھی بعد از آں آدمیوں کی کثرت ہوئی اور مسجد میں تنگی ہوئی اس کے روبرو اور آگے بڑھا کر اور زیادہ کشادہ بنائی گئی پہلی جگہ میں جو نیچے ہے، اس میں چند لڑ کے بھی پڑھتے ہیں، پھر جمعہ کے روز اس میں بھی کچھ آدمیوں کو تکلیف ہونے لگی اور نہ آسکے جو پہلی جگہ نیچے کی تھی اس میں کچھ جگہ میں وضو خانہ بنالیا گیا اور اکثر جگہ جس میں ۵ یا ۶ صف ہو جاتی ہیں بروز جمعہ بھی ۳۵٫۳۰ آدمی کھڑے ہو جاتے ہیں اور بعض وہاں پر جماعت ثانیہ بھی پڑھتے ہیں جس کو بعض…
جواب
جو حصہ پہلے سے مسجد ہے اس میں جماعت ثانیہ اور صلوٰۃ جنازہ مکروہ ہے،وتكره الصلوة على الجنازة في مسجد جماعة عندنا اهـ كبيري ص: ۵۴۵. اور جس حصہ کا بعد میں اضافہ ہوا ہے، اگر مسجد میں اس جگہ کا اضافہ بہ نیت مسجد کیا گیا ہے تب تو اس پر مسجد کے احکام جاری ہوں گے یعنی وہاں جنب کا جانا منع ہوگا، جماعت ثانیہ مکروہ ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔