الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جملہ خبریہ کی تعریف اور کلمہ توحید

سوال

جملہ اسمیہ خبریہ وفعلیہ وہ ہوتا ہے کہ جس کے قائل کو صادق وکاذب کہہ سکیں، تو لا اله الا الله محمد رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی یہ گمان ہو سکتا ہے اور غیر مسلم کہہ سکتا ہے کہ لا الہ الا الله تا آخر کو بھی صادق وکاذب کہہ سکتے ہیں۔

جواب

جہاں یہ تعریف کی جاتی ہے وہاں یہ قید بھی شراح بیان کرتے ہیں کہ وہ خصوصیت طرفین اور دلائل خارجیہ سے خالی ہو، اگر دلائل سے ایک جانب متعین ہو جائے جیسے” السماء فوقنا والارض تحتنا“ یہ جملے خبریہ صادقہ ہیں، کیونکہ کہ دلائل کے ساتھ ایک جانب صدق متعین ہو گئی، دوسری جانب کا احتمال نہیں رہا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو