الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی نجات سے بحث

سوال

کتاب شریعت یا جہالت میں مسلم شریف کی ایک حدیث نقل کی ہے، کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میرا باپ کہاں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ میں راوی کا بیان ہے کہ حضور ﷺ کا جواب سنکر وہ شخص واپس ہوا تو حضور ﷺ نے اس کو واپس بلا کر فرمایا کہ میرا باپ اور تیرا باپ دونوں دوزخ میں ہیں، کچھ لوگ اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں، کہ حضور ﷺ کے باپ کس طرح دوزخ میں ہونگے، آیا یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف، امید کہ اس مسئلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے؟

جواب

یہ حدیث معتبر ہے، علامہ جلال الدین سیوطی نے اس مسئلہ پر متعدد رسائل تصنیف کئے ہیں اور بتایا ہے کہ اس گفتگو کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کے نجات پانے کی اطلاع آپ کو کی گئی ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد ماجد کو زندہ کیا گیا اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ علامہ سیوطی کے خلاف بھی بعض علماء کے رسائل ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو