الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امت دعوت واجابت

سوال

ہندو، پارسی، یہود، نصاری وغیرہ بھی کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کہلانے کے مستحق ہیں، اگر مشرک بھی حضور ﷺ کے امتی ہیں تو مسلم اور غیر مسلم میں کیا فرق ہے؟ اگر آپ مشرکین کو حضور ﷺ کا امتی شمار کرتے ہیں تو اس دعا کا ان سے تعلق نہیں ہو جاتا ”اللَّهُمَّ اغْفِر لأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “جس کے معنی ہیں کہ اے اللہ امت محمد ﷺ کی مغفرت فرمادے آمین، پھر اس کے خلاف اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ مشرک ابدی جہنمی ہیں اور ان کی مغفرت نہیں ہوگی، کیا ہم اللہ رب العزت کی مرضی کے خلاف ان کی مغفرت کی دعا…

جواب

حضور ﷺ کی امت ہونے کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ جن کی طرف آپ کو نبی بنا کر بھیجا گیا، اور آپ نے دعوت دی، اس اعتبار سے ہر ملک کے رہنے والے اور ہر مذہب پر چلنے والے آپ کے امتی ہیں، کیونکہ آپ کی نبوت عام ہے کسی قوم اور کسی ملک کے ساتھ خاص نہیں جیسے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی نبوت کا حال تھا ”قل يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا وَمَا أَرْسَلْنَاكَ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو