الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Обязан ли алим отвечать на каждый вопрос?

سوال

اگر کوئی کسی مولوی عالم اور واقف اسرار شریعت سمجھ کر اس سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور وہ اس خیال سے کہ اس کے جواب سے کسی عزیز و دوست کا نقصان ہوگا، عمداً اس کا جواب نہ دے، اور اس کے سوال کو گذاشتنی اور اس کو جاہل جان کر جواب جاہلاں باشد خموشی پر عمل کرے تو کیا اس نے خدا کے اس حکم کے خلاف ورزی نہیں کی، کہ جو تم کو معلوم ہو صاف صاف ظاہر کر دو اور کچھ نہ چھپاؤ اگر چہ اس میں تمہارا یا تمہارے عزیز دوست کا نقصان ہی کیوں نہ ہو، کیا اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے خلاف کرنے والے کی قیامت میں خدا کی طرف سے باز پرس نہیں ہوگی؟

جواب

مسئلہ شرعیہ بوقت ضرورت ظاہر کرنا واجب ہے اور محض اس خیال سے کہ میرے کسی عزیز کو نقصان پہنچے گا چھپانا جائز نہیں ہے لیکن ہر سوال کا جواب دینا بھی واجب نہیں، ضرورت کا مدار جواب دینے والے کے احساس پر ہے، یعنی بسا اوقات سائل کے نزدیک اس سوال کا جواب ضروری ہوتا ہے اور مجیب کے نزدیک ضروری نہیں ہوتا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر سوال کا جواب خواہ وہ قابل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو