الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گیس بتی مجالس شرک وفسق میں کرایہ پر دینا

سوال

یہ ہے کہ خادم ایک مدت سے گیس بتیاں کرایہ پر دیتا ہے، اور کرایہ پر لے جانے والے حضرات وقتا فوقتا اپنی غرض ایسی بتلاتے ہیں کہ جو کبھی شرک ہوتا ہے، یا فسق یا بدعات مثلاً گنیت کی پوجاپاٹ اور دیوالی و عرس اسی طرح جوا، شراب خانہ، زنا کاری کے اڈے اور ناچ گانوں کی محفلیں اور شادی بیاہ کی بارات جس میں بینڈ باجے وغیرہ ہوتے ہیں، عرس کی چادر کا جلوس و دیگر امور بدعات کے لئے لیجانا چاہتے ہیں، تو کیا اس صورت میں خادم کو گیس بتیاں دینا جائز یا نا جائز، جب کہ اس کے ساتھ بذات خود یا کسی دوسرے شخص کا ساتھ ہونا یا جو مسلماں ہوتا ہے،…

جواب

یہ جانتے ہوئے کہ فلاں معصیت یا شرک کی محفل میں یہ گیس جائے گا، جس سے اس کی رونق میں اضافہ ہوگا، یہ اس کی اعانت ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہئے، لقوله تعالى: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان، پھر جبکہ گذارہ کا دوسرا ذریعہ بھی قابو میں ہے، تو اس کو بالکل ترک کر دیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو