الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قوالی اور اس کی آمدنی

سوال

زید ایک صالح اور دیندار آدمی ہے، اور وہ نماز پنجگانہ کا پابند ہے، نیز امور شرعیہ کا لحاظ کرتا ہے، مگر اس کا ذریعہ معاش پیشہ قوالی ہے، وہ قوالی کی محفل میں شرکت کرتا ہے، اور اس کی آمدنی سے اپنے اہل وعیال کی کفالت کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیشہ قوالی جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ اس روپیہ سے غرباء کی امداد وادائیگی حج بیت اللہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب

مروجہ قوالی نا جائز ہے، اس کو ذریعہ معاش بنانا اور پیسہ حاصل کرنا بھی نا جائز ہے، ایسا پیسہ درست نہیں، اس کو غریبوں پر صدقہ کر دے، اور آئندہ کیلئے اس پیشہ سے توبہ کرلے، ایسی کمائی سے جو ٹیکسی خریدی ہے، اس ٹیکسی کی آمدنی نا جائز نہ ہوگی، بلکہ اس کی قیمت کے بقدر روپیه حسب وسعت صدقہ کر دے، بزرگانِ دین نے اس قسم کی محفلیں منعقد نہیں کیں، ان کا دوسرا حال تھا، امام ابو حنیفہ، امام…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو