الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میت کیلئے تسبیح وتہلیل وغیرہ اجرت پر

سوال

(۱) جب میت مر جائے، تو دفن کے بعد مولوی ملے حفاظ و غیر ہم کو جمع نقد رقم دیگر چار دن یا کم و بیش تک قبر کے گردا گرد تسبیح و تہلیل وغیرہ پڑھواتے ہیں، اور اس ثواب کو میت کو بخشنا کیسا ہے، یعنی اس روپیہ کو ترک میت سے بغیر تقسیم تر کہ ادا کرنا چاہئے یا نہیں، قبر کے گرد خصوصیت سے جمع ہو کر پڑھنا جائز ہے یا نہیں، ان اجرت پر پڑھنے والوں کو ثواب ملے گا یا نہیں، اور ان کو یہ رقم لینا کیسا ہے؟ (۲) کسی حافظ ملا کو دو ایک روپیہ دیکر اپنے گھر چالیس روز تک قرآن شریف پڑھوانا کیسا ہے؟

جواب

(۱) تسبیح وتہلیل پر اجرت لینا اور دینا نا جائز ہے، اس صورت میں ثواب نہیں ہوتا، بلکہ گناہ ہوتا ہے، اگر میت اس کی وصیت کرے تو یہ وصیت باطل ہے، اگر ورثہ میں بعض نابالغ ہیں تو بغیر تقسیم کئے ترکہ میں سے یہ اجرت دینا قطعاً نا جائز ہے، دینے والوں پر بقدر حصہ نا بالغین ضمان لازم ہوگا، بعد تقسیم اگر بالغین اپنے حصہ میں سے دیں گے، تو گناہ سے وہ بھی نہ بچیں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو