کم تنخواہ کا علاج
سوال
متولی اچھی طرح جانتا ہے کہ قرآن مجید کو قواعد کے مطابق ادا نہیں کر سکتا مگر کم تنخواہ کی وجہ سے بچوں کو تعلیم دلواتا ہے، اور مولوی خود اپنی اصلاح نہیں کر سکتا، کیونکہ عمر درازی کی وجہ سے اصلاح میں شرماتا ہے، ایسی حالت میں بچوں کی اصلاح کی کیا تدبیر ہے؟ اسی طرح کی تعلیم کے سلسلہ میں بچوں کا وقت ضائع کرانے میں خدا تعالیٰ کے دربار میں مجرم کون ہوگا؟ استاذ یا شاگرد، یا مهتم، یا والدین؟
جواب
(۳،۲) اگر متولی کے پاس زیادہ تنخواہ کا انتظام نہیں ہے تو اہل محلہ خود کوشش کر کے زیادہ تنخواہ کا انتظام کر دیں تا کہ یہ صورت ہی ختم ہو جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔