جو امام پابندی نہ کرے اس کا معاوضہ
سوال
مسجد میں ایک امام نماز پڑھانے کے لئے رکھا گیا تھا، اور اس سے جواناج کا وعدہ کیا تھا، وہ اس شرط پر کہ اگر جمعہ کی نماز چھوڑ دی یا بلاضرورت باہر گھومے پھرے، تو اناج کے وعدہ کو کوئی پورا نہ کرے گا، اس کے بعد حافظ صاحب نے ساڑھے تین مہینے نماز پڑھائی، آوارہ اس دوران گھوما، ٹائم پر جماعت نہیں کرائی، مقتدیوں نے کہا تو اس نے زبان درازی کی، اب ہم اس سوچ میں ہیں کہ اس اناج میں مسجد کے کام میں یا مدرسہ اسلامیہ میں دیدیا جائے، یا اس حافظ کو دیدیا جائے، آپ اس کا جواب جلد دیں؟
جواب
جتنے روز تک نماز پڑھائی ہے، اتنے روز کا اناج اس امام کو دیدیا جائے، اور بس باقی مسجد میں لگا دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔