دھوبی وغیرہ کی خدمت واجرت
سوال
بعض جگہ قاعدہ ہے کہ درزی، دھوبی حجام بڑھتی وغیرہ کو کچھ زمین بے لگان دیتے ہیں، یا وہ ان پر غلہ کی ایک خاص مقدار معین کر دیتے ہیں، اور اس کے عوض میں اس سال بھر میں جتنی مرتبہ کام کی ضرورت پڑتی ہے، کام لیتے رہتے ہیں، خواہ وہ آمدنی اس کے کام کی سالانہ اجرت سے کم ہو یا زیادہ اگر وہ خوشی سے اس کو کرتا ہے؟ براہ کرم جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں؟
جواب
اس صورت میں چونکہ عمل کی تفصیل معلوم نہیں ہوتی، جس سے نزاع پیدا ہوتا ہے، لہذا یہ اجارہ فاسدہ ہوتا ہے، لیکن اگر کسی جگہ اس کا عرف عام ہے، اجیر و مستاجر معاملہ کو بوقت عقد اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں، اور کوئی جہالت مفضی الی النزاع باقی نہیں رہتی، تو وہاں اس معاملہ کو جائز کہا جائے گا،” ومنها ان يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوماً ما يمنع المنازعة فان كان مجهولاً جهالة مفضية الى…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔