الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زمین کا اجارہ کئی سال کے لئے

سوال

(۱) ایک شخص نے اپنی تین بیگھہ خام آراضی اپنی ضرورت کیلئے ایک شخص کو مبلغ ایک ہزار روپئے میں رکھی ہے، اور اس زمین تین بیگھہ پر پچاس روپئے سالانہ کٹتے ہیں، جو کہ بیس سال میں ایک ہزار روپئے ختم ہو جائیگا، یہ طریقہ جائز ہے یا نا جائز؟ سوال: (۲) ایک شخص ضرورتمند سے آٹھ سو روپیہ میں چھ بیگھہ خام آراضی گروی رکھی ہے، جس کے سو روپئے سالانہ کٹتے ہیں، یہ زمین سو بیگھہ سالانہ لگان پر اُٹھ سکتی ہے، یہ بھی طریقہ جائز ہے یا نا جائز، یہ سود ہے یا نہیں؟

جواب

(۱،۲) تین بیگھہ یا چھ بیگھہ زمین کا جو لگان سالانہ عام طور پر ہوتا ہے، اتنی ہی مقدار سالانہ پیشگی دیتے ہوئے روپئے سے کئے تو یہ اجارہ کا معاملہ ہو کر درست ہوگا، اس کو قرض نہیں کہا جائیگا، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ ایک ہزار روپے پیشگی لگان دیدیا گیا ہے جس میں سے سالانہ اتنی مقدار کٹتی رہتی ہے، اگر اس میں سے سالانہ مقدار روپئے دینے، دباؤ کی وجہ سے کم تجویز کیجائے تو یہ نا جائز ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو