الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لگان پر زمین دینا

سوال

زید نے اپنی چار بیگھہ زمین بعوض ایک ہزار روپیہ دو سال کاشت کیلئے دو شرطوں پر دیتا ہے، اول یہ کہ دو سو روپیہ سالانہ لگان دوں گا (کرایہ ہوگا) دوسرے یہ کہ دو سال کے بعد خالی ہونے پر واپس لے لیگا، اور باقی رقم یعنی سولہ سو روپے واپس کرونگا، دوسال کالگان کاٹ کر، آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر اس زمین کا لگان دو سو روپیہ ہی ہے تو پیشگی لگان لے کر زمین کرایہ پر لینا درست ہے، لیکن معاملہ صرف دو سال کے لئے نہ کیا جائے بلکہ پانچ سال کے لئے معاملہ کر لیا جاوے، پھر دو سال گزرنے پر فریقین چاہیں تو بقیہ مدت کے اجارہ کو فسخ کر دیں، اور سولہ سو روپے واپس کر دیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو