استاذ شاگرد کو کتنا مار سکتا ہے
سوال
استاذ اپنے شاگرد کو کتنا مار سکتا ہے؟ کیا شریعت نے اس کی کوئی حد مقرر کی ہے، ایک مولوی صاحب فرمارہے تھے کہ استاذ اپنے شاگرد کو تین چھڑی سے زائد نہیں مار سکتا، اگر مارا تو یہ ظلم ہوگا، احقر کہتا ہے کہ اگر طالبعلم تین چھڑی کھانے کے باوجود سبق یاد نہ کرتا ہو شرارت سے باز نہ آتا ہو، تو اس صورت میں استاذ اگر اپنے شاگرد کو نیک نیتی سے اور اس کی خیر خواہی کی خاطر اور اس کی اصلاح کی خاطر اور اس کو سبق یاد ہونے کی خاطر اور طالبعلم اپنی شرارت سے باز آنے کی خاطر اپنے شاگرد کو تین چھڑی سے زائد مارے تو کیا یہ جور وظلم ہوگا،…
جواب
چھوٹے بچوں کو بغیر چھڑی وغیرہ کے صرف ہاتھ سے وہ بھی انکے تحمل کے موافق تین چیپت تک مار سکتا ہے، وہ بھی سر اور چہرہ کو چھوڑ کر یعنی گردن اور کمر پر،اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، ورنہ بچہ قیامت میں قصاص لیں گے، بچوں پر شفقت اور نرمی کی جائے، اب پیٹنے کا دور تقریبا ختم ہو گیا، اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے، بچے بے حیا اور نڈر ہو جاتے ہیں، مارکھانے کے عادی ہو کر یاد نہیں کرتے، بلکہ اکثر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔