بیوی سے وطی فی الد بر کی سزا
سوال
ایک شخص نے اپنی منکوحہ بالغہ اور زوجہ کی بہن نابالغہ سے اغلام کا قبیحہ گناہ کیا، تو اس کی سزا کیا ہے؟ لیکن قانون سرکاری کی رو سے باہر ہو) نکاح بھی ٹوٹ گیا یا نہیں؟ اس گندے فعل کے کرنے اور تائب ہونے کے دوسال بعد یہ نکاح کس طرح سے ہوسکتا ہے، دوسرے مرد سے نکاح ہو سکتا ہے یا اسی شوہر سے نکاح درست ہے؟ ایسی صورت میں طلاق کا حاصل کرنا ضروری ہے، یا نہیں؟ آیا طلاق پڑ جائے گی یا نہیں، شوہر زوجہ، سالی تینوں سزا کے مستحق ہیں، یا نہیں؟ اور تائب ہونے کی صورت میں سزاء عقبی سے محفوظ رہنے کی کیا سبیل ہے؟
جواب
ایسے شخص کی سزا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک امام یعنی حاکم وقت کی رائے پر ہے، کہ خواہ اس کو حبس دوام کی سزا دیوے خواہ کوڑے لگائے، خواہ کسی بلند جگہ سے گرا کر اس پر پتھر مارے، خواہ اس کے اوپر دیوار گرادے، خواہ اس کو آگ میں جلا دے، اور اگر یہ فعل اس کی عادت بن گیا ہو، تو اس کو قتل کر ڈالے، نابالغہ پر سزا کچھ نہیں، البتہ ایسے فعل سے بچنا ضروری ہے، زوجہ نے اگر خوشی سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔