الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بچوں کو تادیبا مارنا

سوال

بچوں کو جو حضرات تعلیم دیتے ہیں، وہ ان کو مارتے بھی ہیں، مرغا بناتے ہیں کہ اس پر حد کی تعریف صادق نہیں آتی ہے،” و الحدفى الشريعة العقوبة المقدرة حقا لله تعالى. تو اس میں کس قدر گنجائش ہے، اور اگر کسی کو مارا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بے خطا ہے، تو کیا صورت تلافی کی ہے؟

جواب

بچوں کے اولیاء کی اجازت سے بضرورت تعلیم مارنا سزادینا شرعاً درست ہے، مگر بچوں کے تحمل سے زائد نہیں، ایک دفعہ تین ضربات سے زیادہ نہ مارے لکڑی وغیرہ سے نہ مارے۔ کذافی ردالمحتار، ج۵ ص ۲۳۵ قبيل احياء الموات.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو