چوری وزنا کا الزام
سوال
ایک رات زبیدہ قریب آٹھ بجے رات کو اپنے گھر کے بغل والے گوہال (مویشیوں کے باندھنے کی جگہ) کچھ آواز سن کر اپنے بیٹے وبیوی کو چراغ جلا کر دیکھنے کا حکم دیا، ان لوگوں کی گفتگو سن کر آس پاس کے لوگ کیفیت پوچھنے چلے آئے، زید بھی ان ہی لوگوں میں تھا، اور پوچھ رہا تھا مذکورہ بالا پڑوسیوں نے چاروں طرف دیکھا مگر آدمی یا چور کا کوئی ثبوت نہیں پایا، اور سب لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے، دن کے ایک بجے زبیدہ نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ رات میرے گھر میں زید گھسا تھا، بات آہستہ آہستہ زبیدہ کے گھر سے پھیلنی لگی، عین اسی وقت محمود کے…
جواب
بلا دلیل کسی پر زنا کا الزام لگانا حرام ہے اسی طرح چوری کا بھی الزام حرام ہے، اگر کوئی دعویٰ کرے کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے، اور اس پر گواہ شرعی پیش نہ کر سکے، تو پھر دوسرے شخص پر کہ جس پر الزام لگایا گیا ہے قسم لازم ہوگی، مگر قسم کے لئے نہ منبر شرط، نہ قرآن شریف ہاتھ میں لینا شرط ہے ایسی مسلمان کو ذلیل کرنا جائز نہیں، ثبوت زنا کے لئے چار عینی شاہدوں کی گواہی چشم دید ضروری ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔