تهمت زنا لگانے والے سے ترک تعلق
سوال
زید نے بکر کی لڑکی پر نا جائز حمل کے گرائے جانے کا الزام لگایا بکر نے افواہ سنکر قرب وجوار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہا کہ یہ الزام قطعی جھوٹ اور غلط ہے، جس پر پنچایت نے زید سے ثبوت پہنچانے کا مطالبہ کیا، زید نے پنچوں کے سامنے بیان دیا کہ پہلے سے کچھ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ ہم گواہی دیں گے لیکن جب میں نے برادری کے سامنے ظاہر کیا تو جولوگ ثبوت میں تھے وہ کہنے پر تیار نہیں ہیں، میں تنہا حلف دے سکتا ہوں کہ بات سچ ہے، اور دوسرا کوئی گواہ ہمارے پاس نہیں ہے، زید کے اس بیان پر پنچایت نے فیصلہ دیا کہ تنہا زید کا بیان…
جواب
ایسی صورت میں شرعاً زید کو کاذب قرار دیا جائے گا، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے” فان لم ياتوا بالشهداء فاولئك عند الله هم الكاذبون، اگر شرعی حکومت ہو تو ایسے شخص کے اسی کوڑے لگائے جائیں، اور آئندہ کے لئے بھی کسی معاملہ میں اسکی گواہی قبول نہیں ہوگی اب جب کہ یہاں اس کی قدرت نہیں تو اس کو ترک تعلق کی سزا دینا درست ہے یہاں تک کہ وہ اپنی حرکت پر نادم ہو کر سچی توبہ کرے، اور اپنی اصلاح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔