لڑکی کی حق تلفی کر کے حج
سوال
۳۷ / بیگہ زمین سرال سے میرے حصہ میں آئی اور ۱۹ / بیگہ میرے پاس موروثی ہے، موروثی زمین کا بیس گنا ادا کر رہا ہوں اور ۲۵رسال سے برابر ادا کررہا ہوں، کل جگہ ۵۶ / بیگہ ہے اور سب کے رہائشی مکان الگ الگ بنوا دیئے ہیں، ایک لڑکی تھی اس کی شادی کر دی وہ اپنے گھر بار کی ہو گئی ہے، زمین سے کوئی حصہ نہیں دیا ہے، اور میرے پاس ۱۴ / بیگہ زمین ہر دو قسم کی زمینوں کو ملا کر باقی بچی ہے، میں چاہتا ہوں کہ ۱۴ار بیگہ زمین کو بیچ کر زیارت حج بیت اللہ کر آؤں تو کیا یہ حج میرے لئے جائز ہوگا؟
جواب
حج تو آپ کا ہو جائے گا لیکن آپ نے لڑکی کو زمین نہیں دی، یہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے، حالانکہ جتنی جتنی لڑکوں کو دی ہے، اتنی لڑکی کو دینا چاہئے تھی، اپنی زندگی میں جب اولاد کو بطور عطیہ زمین وغیرہ دی جائے تو سب کا حق برابر ہوتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔